صفحات

Thursday, 4 May 2023

اک بار تو ایسا ہو اس وقت کے صحرا میں

 اک بار تو ایسا ہو

اس وقت کے صحرا میں

سانسوں کے بہاؤ میں

اس زیست کے دریا میں

اک یاد کی ناؤ میں

کچھ دور کناروں سے

مضبوط سہاروں سے

تم ڈوبنے لگ جاؤ

ماضی کی کتابوں میں

کچھ ڈھونڈنے لگ جاؤ

اک بار ضروری ہے

میں یاد تمہیں آؤں

تم صرف مجھے سوچو

اس وقت مجھے چاہو

جب میں نہ میسر ہوں

اس وقت اذیت کو

نا ہونے کی حسرت کو

تم خود بھی سمجھ جاؤ


ماریہ نقوی

No comments:

Post a Comment