اک بار تو ایسا ہو
اس وقت کے صحرا میں
سانسوں کے بہاؤ میں
اس زیست کے دریا میں
اک یاد کی ناؤ میں
کچھ دور کناروں سے
مضبوط سہاروں سے
تم ڈوبنے لگ جاؤ
ماضی کی کتابوں میں
کچھ ڈھونڈنے لگ جاؤ
اک بار ضروری ہے
میں یاد تمہیں آؤں
تم صرف مجھے سوچو
اس وقت مجھے چاہو
جب میں نہ میسر ہوں
اس وقت اذیت کو
نا ہونے کی حسرت کو
تم خود بھی سمجھ جاؤ
ماریہ نقوی
No comments:
Post a Comment