تم نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کے بارے پاگل
ننگے پاؤں ہیں اور تلوار کے دھارے پاگل
اس قدر تیرگی میں کیسے ٹھکانہ ڈھونڈیں
کون دیتا ہے فقیروں کو سہارے پاگل
عمر بھر کون بھلا ساتھ تمہارا دیتا
تم تو بھولے ہو، دیوانے ہو، بیچارے پاگل
نقد ڈھونڈے سے جہاں نیند میسر نہ ہوں
واں تمہیں خواب ہیں درکار ادھارے پاگل
سانس دی، روح دی، دھڑکن دی، زندگی دی اسد
کس قدر کم ہیں محبت کے خسارے پاگل
ملک محمد اسد
No comments:
Post a Comment