Thursday, 4 May 2023

وہی آرزو کی اٹھان ہے

 وہی آرزو کی اُٹھان ہے

وہی حسرتوں کی دُکان ہے

وہی بُوند تہِ جام رہ گئی

وہی بُوند پیاس ہے، تکان ہے

وہی جو ہے خواہشِ بے اماں

وہی اضطرابِ دل و جان ہے

وہی ہے وجود کی بے کلی

وہی بے یقینی گُمان ہے

وہی چارا گر کی ستمگری

جو بنامِ امن و امان ہے

کہیں دل ہے ہاتھ میں، جاں کہیں

کہیں ڈر سے ترکِ مکان ہے

کوئی ہے یہاں جو ہے مطمئن

کوئی جو نہیں پریشان ہے

ہے لایعنیت میں ہی یعنیت

بے نقطہ فکر میری جان ہے

ہے وجود میں بے وجودیت

وہی تشنہ حرف و بیان ہے


مسعود بیگ تشنہ

No comments:

Post a Comment