Thursday, 4 May 2023

ترے جمال کے ہیں رنگ یا گلاب کے رنگ

 تِرے جمال کے ہیں رنگ یا گلاب کے رنگ

کہ شاخ شاخ پہ نکھرے تِرے شباب کے رنگ

ورق ورق سے جھلکتی ہیں تیری تصویریں

نکھرتے جاتے ہیں کیسے مِری کتاب کے رنگ

بچھڑ کے اس سے خسارا ہوا مِرا دُگنا

وہ ساتھ لے گیا، کیا کیا مِرے حساب کے رنگ

میں اک جزیرے میں بیٹھا ہوا یہ سوچتا ہوں

دکھاوں کیسے زمانے کو اپنے خواب کے رنگ

نشے میں جھوم رہا تھا فضا کا ہر گوشہ

تمہاری آنکھ سے چھلکے ہیں سب شراب کے رنگ

ادھر بھی دیکھ کلیجہ نہ جل رہا ہو مِرا

یہ سرخ سرخ نظر آتے ہیں کباب کے رنگ

ابھی تو اس کے بدن کو ضیاء چھوا ہی نہیں

بدل رہے ہیں ابھی سے مِرے جناب کے رنگ


ضیاء شاہد

No comments:

Post a Comment