صفحات

Thursday, 6 July 2023

لکھوں قلم سے تو طیبہ لکھائی دیتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لِکھوں قلم سے تو طیبہ لکھائی دیتا ہے

سُنوں تو صرف مدینہ سنائی دیتا ہے

زمیں پہ ایک جگہ رشکِ آسماں ہے اور

جہاں سے نور کا قریہ دکھائی دیتا ہے

یہیں سے مجھ کو شفا ملتی ہے زمانے میں

یہ اسم میرے مرض کو دوائی دیتا ہے

بہت سنبھل کے چلا جاتا ہے یہاں دیکھو

یہ ایک راستہ ہے جو بھلائی دیتا ہے

میں اک نگاہِ کرم کا ہوں ملتجی کب سے

وہ جانے کب مجھے در کی گدائی دیتا ہے

یہ تجربہ ہے مِری زیست کا، مجھے اشعر

درودِ پاکﷺ غموں سے رہائی دیتا ہے


مرتضیٰ اشعر

No comments:

Post a Comment