عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منفرد سب سے چلن صدیقؓ کا
دین پر لگتا ہے دھن صدیقؓ کا
عرش والے یک زباں کہنے لگے
بوریا ہے پیراہن صدیقؓ کا
حق کہا، حق بات کی تصدیق کی
یوں ہوا خوشبو دہن صدیقؓ کا
سانپ نے ایڑی پہ آخر ڈس لیا
کانپ اٹھا تھا بدن صدیقؓ کا
مصطفٰیؐ صلے علیٰ صدیقؓ کے
مرتضٰیؑ خیبر شکن صدیقؓ کا
مصطفٰیؐ کی یاد میں روتے رہے
لمحۂ فرقت کٹھن صدیقؓ کا
میں اکیلا ہی نہیں امجد ہوا
روح میری، اور بدن صدیقؓ کا
حسین امجد
No comments:
Post a Comment