عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سو بسو تذکرے اے میرِؐ امم تیرےﷺ ہیں
اوجِ قوسین پہ ضو ریز علم تیرےﷺ ہیں
وقت اور فاصلے کو بھی تری رحمت ہے محیط
سب زمانے تِرے، موجود و عدم تیرےﷺ ہیں
جیسے تارے ہوں سرِ کاہکشاں جلوہ فشاں
عرصۂ زیست میں یوں نقشِ قدم تیرےﷺ ہیں
قافلے خیر کے اے خیر شِیَم تیرےﷺ ہیں
ہیں تِریﷺ ذات پہ سو ناز گنہ گاروں کو
کیسے بے ساختہ کہتے ہیں کہ ہم تیرےﷺ ہیں
ہم کو مطلوب نہیں مال و منالِ ہستی
ہم طلبگار فقط تیری قسم تیرےﷺ ہیں
ناز بردارئ دنیا کی مشقّت میں نہ ڈال
ہم کہ پروردۂ صد ناز و نعم تیرےﷺ ہیں
ان کی خوشبو سے مہک جائے مشامِ عالم
میرے دامن میں جو گلہائے کرم تیرےﷺ ہیں
حفیظ تائب
٭خیر شِیَم؛ اچھی خصلت، اچھی عادت والا
No comments:
Post a Comment