Thursday, 3 November 2016

کچھ پرندے ہیں نہیں پیڑ کے عادی وہ بھی

کچھ پرندے ہیں نہیں پیڑ کے عادی وہ بھی
چھوڑ جائیں گے کسی روز یہ وادی وہ بھی
خواب میں کچھ در و دیوار بنا رکھے ہیں
جانے کیا سوچ کے تعمیر گِرا دی وہ بھی
میرے گھر میں نئی تصویر تھی اس چہرے کی
رنگ دیوار کا بدلا تو ہٹا دی وہ بھی
میں نے کچھ پھول بنائے تھے مِٹا ڈالے ہیں
ایک تتلی بھی بنای تھی اڑا دی وہ بھی
مجھ کو جادو نہیں آتا تھا پری سے سیکھا
بن گیا آپ بھی، پتھر کی بنا دی وہ بھی
میں نے اک راہ نِکالی تھی زمانے سے الگ
تُو نے آتے ہی زمانے سے مِلا دی وہ بھی

فیصل عجمی

1 comment: