Saturday, 11 July 2020

تخلیق

تخلیق

سکوت کو چیر کر اترتے
قطرہ قطرہ حروف
ذہن میں نمو پاتے ہیں
تو میں نظموں کو جنم دیتی ہوں
خیال کی بالیدگی
کبھی ایک جملے
کبھی ایک نظر
اور کبھی ایک لمس کی منتظر رہتی ہے
سرخ کو کاسنی ہونے کے لیے
نیلا ہمیشہ درکار رہتا ہے
تخلیق تمہارا حق ہے
اور میری ذمہ داری 
نظر کی دوری
سماعت کو بانجھ کردیتی ہے
نظمیں جننے لیے ضروری ہے کہ
ہمیں پستے کے درخت کی طرح
ایک ساتھ لگایا جائے
ورنہ جلد ہی دنیا میں یہ ذائقے دار خوشنما پھل
نایاب ہو جائے گا

انجیل صحیفہ

No comments:

Post a Comment