Saturday, 11 July 2020

پھڑ پھڑانے سے تھک گئی ہوں میں

پھڑ پھڑانے سے تھک گئی ہوں میں
قید خانے سے تھک گئی ہوں میں
یہ کوئی "حل" نہیں "اداسی" کا
مسکرانے سے تھک گئی ہوں میں
کوئی" تو "دائمی" ٹھکانہ" ہو
آنے جانے سے تھک گئی ہوں میں
دینے والے "تُو" کب یہ سمجھے گا
غم اٹھانے سے تھک گئی ہوں میں
ہو کوئی رات، "آنکھ" لگ جائے
دل لگانے سے تھک گئی ہوں میں
دل کے زنداں میں رکھ لیا تم نے
اس ٹھکانے سے تھک گئی ہوں میں
سارے رشتوں کو "آگ" لگ جائے
اب نبھانے سے تھک گئی ہوں میں

فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment