Friday, 10 July 2020

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
سو بار "گِرہ" دے کے کسی آس نے جوڑا
سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں
جائے گا جہاں "تُو" مری آواز سنے گا
میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں
اک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں
تو اپنا "فسانہ" ہے تو میں اپنی صدا ہوں
"چھیڑو نہ ابھی "شاخ" شکستہ کا "فسانہ
ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں
منزل کا "پتا" جس نے "دیا" تھا مجھے باقی
اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment