Tuesday, 6 September 2022

آنکھ میں آنسو لبوں پر سسکیاں رہ جائیں گی

 آنکھ میں آنسو، لبوں پر سسکیاں رہ جائیں گی

کانپتے ہاتھوں سے لکھی عرضیاں رہ جائیں گی

خوف سے سارے مصور خودکشی کر لیں گے اب

💢شہر میں خالی لٹکتی سُولیاں رہ جائیں گی

لاش میری بیچ کے قاتل دے دیں گے خوں بہا

محل میں انصاف کے سرگوشیاں رہ جائیں گی

شدتِ بارش⛆ نے انجامِ تصنع لکھ دیا

رنگ دُھل جائیں گے سادہ تتلیاں رہ جائیں گی

خشک کھیتوں کی منڈیروں پر مِرے گا کاشتکار

آسماں پر بَین کرتی بدلیاں 🌤 رہ جائیں گی

جلد ہی طاہر تجھے سب کا پتہ چل جائے گا

تیرا سرمایہ فقط خوش فہمیاں رہ جائیں گی


مرغوب حسین طاہر

No comments:

Post a Comment