مُنتظر رہنا مری جاں بہار آنے تک
رنگ شاخوں سے گلابوں میں اُتر جانے تک
ایک تِتلی ہے کہ بے چین اُڑی پِھرتی ہے
تیرے آنگن سے مِرے دل کے پری خانے تک
دشتِ بے آب سے پوچھو کہ وہاں کے اشجار
ہم تو چپ چاپ چلے آئے بحکمِ حاکم
راستہ روتا رہا شہر سے ویرانے تک
تشنگی اپنے نصیبوں میں لکھی تھی، ورنہ
فاصلہ کچھ بھی نہ تھا ہونٹ سے پیمانے تک
چند لمحوں میں سبھی عکس نکھر آئیں گے
دُھند کا راج ہے بس دُھوپ نکل آنے تک
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment