Tuesday, 7 January 2014

پاس جو کچھ تھا وار آیا ہوں

پاس جو کچھ تھا، وار آیا ہوں
بوجھ سر سے اُتار آیا ہوں
چھا گیا ہوں تمام رَستوں پر
مثلِ موجِ غُبار آیا ہوں
پھر اٹھائے ہیں خلق نے پتھر
پھر سرِ رہگزار آیا ہوں
کب رہائی مِلے گی بارِ خدا
کتنی صدیاں گزار آیا ہوں
گھر، گھروندے دکھائی دیتے ہیں
میں سرِ کوہسار آیا ہوں
کوئی آیا نہ ساتھ دینے کو
شہر بھر کو پُکار آیا ہوں

 مقبول عامر

No comments:

Post a Comment