اِک تماشا سرِ بازار بنانے سے رہا
میں تجھے اپنا خریدار بنانے سے رہا
جس میں معیارِ شرافت کی زبوں حالی ہو
اس جہالت میں تو کردار بنانے سے رہا
اِک تعصب تیری سوچوں پہ مسلط ہے ابھی
سو تجھے قابلِ گفتار بنانے سے رہا
سلوٹیں درد کی اب اس پہ سجاؤں کیسے
اپنی پیشانی کو اخبار بنانے سے رہا
کیا کروں اب تو مِری سوچ کا محور ہی نہیں
اب تجھے زینتِ اشعار بنانے سے رہا
ایک ہی تجربہ کافی تھا محبت کے لئے
اب کسی اور کو غمخوار بنانے سے رہا
میں تجھے اپنا خریدار بنانے سے رہا
جس میں معیارِ شرافت کی زبوں حالی ہو
اس جہالت میں تو کردار بنانے سے رہا
اِک تعصب تیری سوچوں پہ مسلط ہے ابھی
سو تجھے قابلِ گفتار بنانے سے رہا
سلوٹیں درد کی اب اس پہ سجاؤں کیسے
اپنی پیشانی کو اخبار بنانے سے رہا
کیا کروں اب تو مِری سوچ کا محور ہی نہیں
اب تجھے زینتِ اشعار بنانے سے رہا
ایک ہی تجربہ کافی تھا محبت کے لئے
اب کسی اور کو غمخوار بنانے سے رہا
عدنان راجا
No comments:
Post a Comment