یہ میں، یہ کوئے دار، یہ تنہائی دوستو
کیا تُم بھی بن گئے ہو تماشائی دوستو
پیغامِ مَرگ ہے کہ پیامِ حبیب ہے
صَرصَر چلی کہ بادِ مُراد آئی دوستو
یہ کیا کہ ایک تیرِ ملامت نہ کہہ سکے
آغازِ شامِ ہجر ہے، بیٹھے رہو ابھی
ٹھہرو ذرا کہ موت ہے، تنہائی دوستو
زنجیر کٹ گئی کہ کوئی دوست کٹ گیا
کچھ تو کہو یہ کیسی صدا آئی دوستو
اِک بار اُس کو میری نگاہوں سے دیکھ لو
پھر خوُد کہو کہ کون ہے سودائی دوستو
وہ حُسنِ دِلفروز، کہ جانِ فرازؔ ہے
خلقِ خدا ہے اُس کی تمنائی دوستو
احمد فراز
No comments:
Post a Comment