Saturday, 11 January 2014

اِنشا جی ہاں تمہیں بھی دیکھا

اِنشاؔ جی ہاں تمہیں بھی دیکھا
انشاؔ جی ہاں تمہیں بھی دیکھا درشن چھوٹے نام بہت
چوک میں چھوٹا مال سجا کر لے لیتے ہو دام بہت
یوں تو ہمارے درد میں گھائل صبح نہ ہو شام بہت
اک دن ساتھ ہمارا دو گے اس میں ہمیں کلام بہت
باتیں جن کی گرم بہت ہیں کام انہی کے خام بہت
کافی کی ہر گھونٹ پہ دوہا کہنے میں آرام بہت

دنیا کی اوقات کہی، کچھ اپنی بھی اوقات کہو
کب تک چاک دہن کو سی کر گونگی بہری بات کہو
داغِ جگر کو لالۂ رنگیں، اشکوں کو برسات کہو
سورج کو سورج نہ پکارو دن کو اندھی رات کہو

ابن انشا

No comments:

Post a Comment