Friday, 3 January 2014

خوب ہمارا ساتھ نبھایا بیچ بھنور میں چھوڑا ہات

خوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور میں چھوڑا ہات
ہم کو ڈبو کر خود ساحل پر جا نکلے ہو، اچھی بات
شام سے لے کر پَو پَھٹنے تک کتنی رُتیں بدلتی ہیں
آس کی کلیاں یاس کے پت جھڑ صبح کے اشکوں کی برسات
اپنا کام تو سمجھانا ہے، اے دل! رشتے توڑ، کہ جوڑ
ہجر کی راتیں لاکھوں کروڑوں، وصل کے لمحے پانچ کہ سات
ہم سے ہمارا عشق نہ چِھینو، حُسن کی ہم کو بِھیک نہ دو
تم لوگوں کے دُور ٹھکانے، ہم لوگوں کی کیا اوقات
روگ تمہارا اور ہے انشاؔ، بیدوں سے کیوں چہل کرو
درد کے سودے کرنے والے، درد سے پا سکتے ہیں نجات

ابن انشا

No comments:

Post a Comment