Tuesday, 7 January 2014

جو روشنی تھا پڑاؤ کی آخری شب تک

جو روشنی تھا پڑاؤ کی آخری شب تک
سُلگ رہا ہے الاؤ کی راکھ میں اب تک
مِرے ہی دل میں تمہیں لوٹنا ہے شامِ ابد
تمہارا تیر یہیں پر گڑا رہے تب تک
کسی بھی خواب کو ناؤ بنا کے جی لوں گی
یہ نیم گرم روانی رگوں میں ہے جب تک
میں گردِ راہ سے کب تک کلام کرتی رہوں
تِرا سکوت گزرتا رہے گا یوں کب تک
اسی میں گھوم رہی ہیں کہانیاں ساری
ذرا سی راہگزر ہے جو روح سے لب تک
بُرا نہ مان ، ذرا سا اِدھر اُدھر جو ہوئی
میں تیری دی ہوئی ترتیب میں سجی اب تک

حمیدہ شاہین 

No comments:

Post a Comment