Sunday, 16 November 2014

جن سے ہم چھوٹ گئے اب وہ جہاں کیسے ہیں

جن سے ہم چھوٹ گئے اب وہ جہاں کیسے ہیں
شاخِ گل کیسی ہے، خوشبو کے مکاں کیسے ہیں
اے صبا! تُو تو ادھر ہی سے گزرتی ہو گی
اس گلی میں مِرے قدموں کے نشاں کیسے ہیں
پتھروں والے وہ انسان، وہ بے حِس دَر و بام
وہ مکِین کیسے ہیں، شیشے کے مکاں کیسے ہیں
کہیں شبنم کے شگوفے، کہیں انگاروں کے پھول
آ کے دیکھو میری یادوں کے جہاں کیسے ہیں
کوئی زنجیر نہیں لائقِ اظہارِ جنوں
اب وہ زِنداناںِ اندازِ بیاں کیسے ہیں
لے کے گھر سے جو نکلتے تھے جنوں کی مشعل
اس زمانے میں وہ صاحبِ نظراں کیسے ہیں
یاد جن کی ہمیں جینے بھی نہ دے گی راہیؔ
دشمنِ جاں وہ مسیحا نفساں کیسے ہیں

راہی معصوم رضا

No comments:

Post a Comment