Saturday, 15 November 2014

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے
حبسِ جاں نہ کم ہو گا بے لباس ہونے سے
اب تو ميرا دشمن بھی ميرى طرح روتا ہے
کچھ گِلے تو كم ہوں گے، ساتھ ساتھ رونے سے
متنِ زيست تو سارا، بےنمود لگتا ہے
دردِ بے نہايت كا آشيانہ ہونے سے
سچے شعر كا كَھليان اور بھرتا جاتا ہے
درد كى زمينوں ميں غم كى فصل بونے سے
حادثاتِ پيہم كا يہ مآل ہے شايد
کچھ سكون ملتا ہے اب سكون كھونے سے
كس ہنر سے ياروں نے، داستاں رقم كر لى
ميرے خون دل ميں ہی انگلياں ڈبونے سے 

پیرزادہ قاسم صدیقی

No comments:

Post a Comment