Thursday, 6 November 2014

رو برو آئینے کے تو جو مری جاں ہو گا

رو برو آئینے کے، تُو جو مری جاں ہو گا
آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
اے جوانی! یہ تِرے دم کے ہیں، سارے جھگڑے
تُو نہ ہو گی، تو نہ یہ دل، نہ یہ ارماں ہو گا
دستِ وحشت تو سلامت ہے، رفو ہونے دو
ایک جھٹکے میں‌ نہ دامن نہ گریباں ہو گا
آگ دل میں‌ جو لگی تھی، وہ بجھائی نہ گئی
اور کیا تجھ سے، پھر اے دیدۂ گریاں ہو گا
اپنے مرنے کا تو کچھ غم نہیں، یہ غم ہے، امیرؔ
چارہ گر مفت میں‌ بے چارہ پشیماں ہو گا

امیر مینائی

No comments:

Post a Comment