روداد میرے مرنے کی آغاز سے کہنا
وہ رو نہ پڑے سُن کے اس انداز سے کہنا
کچھ پَل ہمیں تقریبِ محبت میں ملے تھے
ان کا نہ کہیں ذکر ہو ہمراز سے کہنا
ذروں میں ستاروں میں چراغوں کی لووں میں
ہم اس کے تھے اس کے ہی رہے ناز سے کہنا
کچھ بھید ادھڑتی ہوئی قبروں کی طرح ہیں
دنیا سے چھپا لے مِرے جاں ساز سے کہنا
اس آتشِ پیہم سے پگھلتی ہے مِری جاں
بارش میں بھی دم گھٹتا ہے دَمساز سے کہنا
یہ راگ تو دیپک ہے سمجھ لو کہ گئے ہم
کومل ہی رکھے سُر کو اس آواز سے کہنا
میں جلتے چراغوں کی قطاروں میں ملوں گی
اب تک تِری راہوں میں ہوں اعزاز سے کہنا
ہم لوگ تو انجام سے پہلے کا ہیں انجام
کچھ لوگ بچھڑ جاتے ہیں آغاز سے کہنا
کیا چاند چکوری کی کہانی میں سحرؔ ہے
سب پنکھ بکھرنے کو ہیں پرواز سے کہنا
وہ رو نہ پڑے سُن کے اس انداز سے کہنا
کچھ پَل ہمیں تقریبِ محبت میں ملے تھے
ان کا نہ کہیں ذکر ہو ہمراز سے کہنا
ذروں میں ستاروں میں چراغوں کی لووں میں
ہم اس کے تھے اس کے ہی رہے ناز سے کہنا
کچھ بھید ادھڑتی ہوئی قبروں کی طرح ہیں
دنیا سے چھپا لے مِرے جاں ساز سے کہنا
اس آتشِ پیہم سے پگھلتی ہے مِری جاں
بارش میں بھی دم گھٹتا ہے دَمساز سے کہنا
یہ راگ تو دیپک ہے سمجھ لو کہ گئے ہم
کومل ہی رکھے سُر کو اس آواز سے کہنا
میں جلتے چراغوں کی قطاروں میں ملوں گی
اب تک تِری راہوں میں ہوں اعزاز سے کہنا
ہم لوگ تو انجام سے پہلے کا ہیں انجام
کچھ لوگ بچھڑ جاتے ہیں آغاز سے کہنا
کیا چاند چکوری کی کہانی میں سحرؔ ہے
سب پنکھ بکھرنے کو ہیں پرواز سے کہنا
شہناز پروین سحر
No comments:
Post a Comment