Thursday, 6 November 2014

زہے وہ معنئ قرآں کہے جو تو واعظ

زہے وہ معنئ قرآں، کہے جو تُو واعظ
 پھٹے دہن کے تئیں اپنے، کر رفو واعظ
 مجھے یہ فکر ہے تُو اپنی ہرزہ گوئی کا
 جواب دیوے گا کیا حق کے روبرو واعظ
 خدا کے واسطے چپ رہ، اتر تُو منبر سے
 حدیث و آیہ کو مت پڑھ تُو بے وضو واعظ
 سنا کسی سے تو نامِ بہشت، پر تجھ کو
 گلِ بہشت کی پہنچی نہیں ہے بُو واعظ
 بتوں کی حسن پرستی سے کیا خلل دیں میں
 خدا نے دوست رکھا ہے رخِ نکو واعظ
 ثبوتِ حق کی کریمی سبھوں پہ ہے لیکن
 تری تو نفئ کرم پر ہے گفتگو واعظ
 ڈروں ہوں میں نہ کریں رند تیری داڑھی کو
 تبرّکات میں داخل ہر ایک مُو واعظ
 ہزار شیشۂ مے اس میں تیں چھپایا ہے
 تری جو پگڑی ہے یہ صورتِ سبو واعظ
 ق
 سخن وہ ہے کہ مؤثر دلوں کا ہو ناداں
 یہ پوچ گوئی ہے جس سے ہے تجھ کو خُو واعظ
 کہا تُو مان لے سوداؔ کا، توبہ کر اس سے
 لب و دہن کے تئیں کر کے شست و شُو واعظ

مرزا رفیع سودا

No comments:

Post a Comment