Sunday, 16 November 2014

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
یادش بخیر، بیٹھے تھے کل آشیانے میں
صدمے دئیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ
کس چیز کی کمی ہے، سخی کے خزانے میں
غربت کی موت بھی سببِ ذکرِ خیر ہے
گر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں
دم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے
کیوں کر کہوں کہ، رات کٹے گی فسانے میں
نکلی اب اپنی روح طلسمِ کثیف سے
ہیں جلوہ گر ہم آج اک آئینہ خانے میں
ساقی! میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
عرشِ بریں میں اور ترے آستانے میں
کیا مے کدے کی آب و ہوا راس آ گئی
مر کر بھی دفن ہیں ہم اسی آستانے میں
دل میں بہارِ چہرۂ رنگیں کا دھیان ہے
یا جلوۂ بہشت ہے آئینہ خانے میں
اب کیا چھڑاؤ گے اس اسیرِ ہوس کو تم
زلفوں سے دل نکل کے پھر اٹکے گا شانے میں
فصلِ شباب آتے ہی دیوانے بن گئے
کیا کیا نہ سانگ لاتے ہیں لوگ اس زمانے میں
دیواریں پھاند پھاند کے دیوانے چل بسے
خاک اڑ رہی ہے چار طرف قید خانے میں
صیاد اس اسیری پہ سو جاں سے میں فدا
دل بستگی قفس کی کہاں آشیانے میں
رہ رہ کے جیسے کان میں کہتا ہے یہ کوئی
ہوں گے قفس میں کل، جو ہیں آج آشیانے میں
افسردہ خاطروں کی خِزاں کیا، بہار کیا
کُنجِ قفس میں مر رہے، یا آشیانے میں
ہم ایسے بد نصیب کہ، اب تک نہ مر گئے
آنکھوں کے آگے آگ لگی آشیانے میں
دیوانے بن کے ان کے گلے سے لپٹ بھی جاؤ
کام اپنا کر لو یاسؔ! بہانے بہانے میں

یاس یگانہ  

No comments:

Post a Comment