Tuesday, 4 November 2014

شام بے کیف کو پر کیف بنانے والے

شامِ بے کیف کو پُر کیف بنانے والے
مل ہی جاتے ہیں حکایت کو سنانے والے
کوزہ گر خون بھی مٹی میں ملا لایا ہے
آج یہ ہاتھ ہیں کچھ خاص بنانے والے
آنکھ میں ایک بھی آنسو نہیں رہنے دیتے
لُوٹ لیتے ہیں ہمیں خواب دکھانے والے
اب اندھیروں میں بھٹکتے ہیں تو یاد آتے ہیں
وہ سرِ شام چراغوں کو جلانے والے
بے خبر ہیں کہ سفینے کی کہانی کیا ہے
دور ساحل پہ کھڑے ہاتھ ہلانے والے
در و دیوار سے حسرت سی برستی ہے قتیلؔ
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment