Sunday, 16 November 2014

تم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دنیا سے بھی دور ہوئے

تُم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دُنیا سے بھی دُور ہوئے
اپنی انا کے سارے شیشے آخر چکنا چُور ہوئے
ہم نے جن پر غزلیں سوچیں ان کو چاہا لوگوں نے
ہم کتنے بدنام ہوئے تھے، وہ کتنے مشہور ہوئے
ترکِ وفا کی ساری قسمیں ان کو دیکھ کے ٹوٹ گئیں
ان کا ناز سلامت ٹھہرا، ہم ہی ذرا مجبُور ہوئے
ایک گھڑی کو رک کر پوچھا اس نے تو احوال مگر
باقی عمر نہ مڑ کر دیکھا، ہم ایسے مغرُور ہوئے
اب کے ان کی بزم میں جانے کا گر محسنؔ اذن ملے
زخم ہی ان کی نذر گزاریں، اشک تو نامنظور ہوئے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment