اک طرزِ پُراسرار میں دیکھا ہے خدا خیر
سایہ کوئی دیوار میں دیکھا ہے خدا خیر
یہ برف کے پھولوں سے بھرا کھیت سلامت
میں نے اسے کُہسار میں دیکھا ہے خدا خیر
پتوں کی صدائیں نہیں پھُنکار سُنی ہے
اژدر کوئی اشجار میں دیکھا ہے خدا خیر
وہ سُرخ پرندہ جسے سب ڈھونڈ رہے ہیں
میں نے ابھی بازار میں دیکھا ہے خدا خیر
سر تا بہ قدم اپنی "بقا" مانگ رہا ہوں
آئینے کو زنگار میں دیکھا ہے خدا خیر
یہ خوف تو ویرانئ دل سے بھی گراں ہے
آسیب درِ یار میں دیکھا ہے،۔ خدا خیر
وہ رنگ کہ خود مجھ پہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا
وہ رنگ بھی اظہار میں دیکھا ہے خدا خیر
سایہ کوئی دیوار میں دیکھا ہے خدا خیر
یہ برف کے پھولوں سے بھرا کھیت سلامت
میں نے اسے کُہسار میں دیکھا ہے خدا خیر
پتوں کی صدائیں نہیں پھُنکار سُنی ہے
اژدر کوئی اشجار میں دیکھا ہے خدا خیر
وہ سُرخ پرندہ جسے سب ڈھونڈ رہے ہیں
میں نے ابھی بازار میں دیکھا ہے خدا خیر
سر تا بہ قدم اپنی "بقا" مانگ رہا ہوں
آئینے کو زنگار میں دیکھا ہے خدا خیر
یہ خوف تو ویرانئ دل سے بھی گراں ہے
آسیب درِ یار میں دیکھا ہے،۔ خدا خیر
وہ رنگ کہ خود مجھ پہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا
وہ رنگ بھی اظہار میں دیکھا ہے خدا خیر
دانیال طریر
No comments:
Post a Comment