Sunday, 15 November 2015

ہزار اہلِ جنوں حلقہ رسن میں رہے

ہزار اہلِ جنوں حلقۂ رسن میں رہے
مگر خیالِ پرستارئ چمن میں رہے
تِرے خیال کے احساں رہیں گے یاد ہمیں
جس انجمن میں رہے تیری انجمن میں رہے
گیا نہ قیدِ قفس میں بھی بانکپن اپنا
اسی طرح سے رہے جس طرح چمن میں رہے
وہ خار جن سےگزرتے ہیں لوگ بچ بچ کر 
بہار بن کے وہی میرے پیرہن میں رہے
تمام رات گزاری خیالِ خوباں میں 
تمام رات ستاروں کی انجمن میں رہے
کچھ اس طرح سے رہو روحِ گلستاں بن کر 
تمہارے بعد تمہاری مہک چمن میں رہے
یہ اختلاف نہ ہو میکشوں میں اے ساقی
نئی شراب اگر ساغرِ کہن میں رہے

شمیم جے پوری

No comments:

Post a Comment