جائے اماں کہیں بھی نہیں اپنے شہر میں
ہم لوگ مبتلا ہیں عتابِ سپہر میں
کاغذ کی ناؤ کے لیے تفریق ہی نہیں
تالاب میں، ندی میں، سمندر میں، نہر میں
آندھی میں اڑ رہے ہیں فسانے ورق ورق
میں ڈوبتا ابھرتا ہوں ہر لحظہ، ہر نفس
ہے مرتعش وجود مِرا، لہر لہر میں
بیزار زندگی سے ہوں، نومید موت سے
تاثیر کچھ نہیں ہے دواؤں میں، زہر میں
منزل کا دور دور کہیں بھی نشاں نہیں
کس سمت جا رہا ہوں میں شبرنگِ دہر میں
شاہد کلیم
No comments:
Post a Comment