الجھاؤ کا مزا بھی تیری بات ہی میں تھا
تیرا جواب تیرے سوالات ہی میں تھا
سایہ کسی یقین کا بھی جس پر نہ پڑ سکا
وہ گھر بھی شہرِ دل کے مضافات ہی میں تھا
الزام کیا ہے، یہ بھی نہ جانا تمام عمر
اب تو فقط بدن کی مروت ہے درمیان
تھا ربطِ جان و دل کا تو شروعات ہی میں تھا
مجھ کو تو قتل کر کے مناتا رہا ہے جشن
وہ ذی لحاظ شخص میری ذات ہی میں تھا
عزیز قیسی
No comments:
Post a Comment