Saturday, 2 January 2016

خواب ميں بھی نہ کسی شب وہ ستمگر آيا

خواب ميں بھی نہ کسی شب وہ ستمگر آيا
وعدہ ايسا کوئی جانے کہ مقرر آيا
مجھ سے میکش کو کہاں صبر، کہاں کی توبہ
لے ليا دوڑ کے جب سامنے ساغر آيا
غير کے روپ ميں بھيجا ہے جلانے کو مِرے
نامہ بر ان کا نيا بھيس بدل کر آيا
سخت جانی سے مِری جان بچے گی کب تک
ايک جب کُند ہوا دوسرا خنجر آيا
داغ تھا درد تھا غم تھا کہ الم تھا کچھ تھا
لے ليا عشق ميں جو ہم کو ميسر آيا
عشق تاثير ہی کرتا ہے کہ اس کافر نے
جب مِرا حال سنا سنتے ہی جی بھر آيا
اس قدر شاد ہوں گويا کہ ملی ہفت اقليم
آئينہ ہاتھ ميں آيا کہ سکندر آيا
وصل ميں ہائے وہ اترا کے مِرا بول اٹھنا
اے فلک! ديکھ تو يہ کون مِرے گھر آيا
راہ ميں وعدہ کريں جاؤں ميں گھر پر تو کہيں
کون ہے، کس نے بلايا اسے، کيونکر آيا
داغؔ کے نام سے نفرت ہے، وہ جل جاتے ہيں
ذکر کم بخت کا آنے کو تو اکثر آيا

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment