یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہو گی
خدا کے سامنے جب میری آپ کی ہو گی
تمام عمر بسر یوں ہی زندگی ہو گی
خوشی میں رنج کہیں رنج میں خوشی ہو گی
وہاں بھی تجھ کو جلائیں گے، تم جو کہتے ہو
تِری نگاہ کا لڑنا مجھے مبارک ہو
یہ جنگ وہ ہے کہ آخر کو دوستی ہو گی
سلیقہ چاہیے عادت ہے شرط اس کے لیے
اناڑیوں سے نہ جنت میں مے کشی ہو گی
مزا ہے ان کو بھی مجھ کو بھی ایسی باتوں کا
جلی کٹی یوں ہی باہم کٹی چھنی ہو گی
ہمارے کان لگے ہیں تِری خبر کی طرف
پہنچ ہی جائے گی جو کچھ بری بھلی ہو گی
مجھے ہے وہم یہ شوخی کا رنگ کل تو نہ تھا
رقیب سے تِری تصویر بھی ہنسی ہو گی
ملیں گے پھر کبھی اے زندگی! خدا حافظ
خبر نہ تھی یہ ملاقات آخری ہو گی
رقیب اور وفادار ہو، خدا کی شان
بجا ہے اس نے جفا پر وفا ہی کی ہو گی
بہت جلائے گا حوروں کو داغؔ جنت میں
بغل میں اس کی وہاں ہند کی پری ہو گی
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment