Saturday, 2 January 2016

یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہو گی

یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہو گی
خدا کے سامنے جب میری آپ کی ہو گی
تمام عمر بسر یوں ہی زندگی ہو گی
خوشی میں رنج کہیں رنج میں خوشی ہو گی
وہاں بھی تجھ کو جلائیں گے، تم جو کہتے ہو
خبر نہ تھی مجھے جنت میں آگ بھی ہو گی
تِری نگاہ کا لڑنا مجھے مبارک ہو
یہ جنگ وہ ہے کہ آخر کو دوستی ہو گی
سلیقہ چاہیے عادت ہے شرط اس کے لیے
اناڑیوں سے نہ جنت میں مے کشی ہو گی
مزا ہے ان کو بھی مجھ کو بھی ایسی باتوں کا
جلی کٹی یوں ہی باہم کٹی چھنی ہو گی
ہمارے کان لگے ہیں تِری خبر کی طرف
پہنچ ہی جائے گی جو کچھ بری بھلی ہو گی
مجھے ہے وہم یہ شوخی کا رنگ کل تو نہ تھا
رقیب سے تِری تصویر بھی ہنسی ہو گی
ملیں گے پھر کبھی اے زندگی! خدا حافظ
خبر نہ تھی یہ ملاقات آخری ہو گی
رقیب اور وفادار ہو، خدا کی شان
بجا ہے اس نے جفا پر وفا ہی کی ہو گی
بہت جلائے گا حوروں کو داغؔ جنت میں
بغل میں اس کی وہاں ہند کی پری ہو گی

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment