Friday, 1 January 2016

مرگ ناتمام

مرگِ ناتمام

پھر تاریک لحد کی جانب
مجھ کو کھینچ کے لے جائے گی
اندیکھی زنجیر
چوبی زینوں کے آخر میں
ہاتھ میں دکھ کا بھالا لے کر
وہ مجھ سے ملنے آئے گا
اور کہے گا
لے تُو دکھ کے اس بھالے سے'
'اپنے دل کو چِیر
اور میں شب بھر
اس تاریک لحد کی گہری
ننگی بہری دیواروں سے
اپنے لہو سے آپ بناؤں
چاہت کی تصویر
صبح کو بازاروں میں جا کر سکھ کا سوانگ رچاؤں گا
شام کو پھر دکھ کے بھالے سے دل کو چِیرنے آؤں گا

احمد شمیم

No comments:

Post a Comment