وہ اختلافِ نظر درمیاں میں آیا رہا
کہ میں تو اپنے ہی گھر میں سدا پرایا رہا
وہاں کی روشنیاں بھی مثالِ ظلمت تھیں
جہاں جہاں مِری نادیدنی کا سایا رہا
یہی کہ نذرِ تب و تابِ زر ہوئیں آنکھیں
یہ معجزہ تھا سرِ چشم ایک آنسو کا
تمام منظرِ شب دھوپ میں نہایا رہا
بنامِ عشق اسے قرض جاریہ کہیے
کہ نقدِ جاں بھی ادا کر کے جو بقایا رہا
آفتاب اقبال شمیم
No comments:
Post a Comment