چشمِ دل چاہے جو انوار سے ربط
رکھے خاکِ درِ دِلدار سے ربط
ان کی نعمت کا طلبگار سے میل
ان کی رحمت کا گنہگار سے ربط
یا خدا! دل نہ ملے دنیا سے
نفس سے میل نہ کرنا اے دل
قہر ہے ایسے ستم گار سے ربط
تلخئ نزع سے اس کو کیا کام
ہو جسے لعلِ شکر بار سے ربط
ان کے دامانِ گہر بار کو ہے
کاسۂ دوست طلبگار سے ربط
کل ہے اجلاس کا دن اور ہمیں
میل عملہ سے نہ دربار سے ربط
عمر یوں ان کی گلی میں گزرے
دشتِ طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہار
ہو عنادِل کو نہ گلزار سے ربط
سرِ شوریدہ کو ہے در سے میل
کمر خستہ کو دیوار سے ربط
اے حسنؔ خیر ہے کیا کرتے ہو؟
یار کو چھوڑ کر اغیار سے ربط
حسن رضا بریلوی
No comments:
Post a Comment