Saturday, 9 April 2016

اپنے اپنے پیمانے ہیں اپنی اپنی پیاس

اپنے اپنے پیمانے ہیں اپنی اپنی پیاس
موت کے صحرا میں لے آیا جیون کا بن باس
پتی پتی ہو کر ٹوٹے آشاؤں کے پھول
میرے گلشن کو آیا تو آیا پت جھڑ راس
رو رو کر جینا مشکل ہے درد بھری اس دنیا میں
برسوں کی قربانی دے کر آج ہوا احساس
کون بجھائے تیرے آنسو، ہاتھ جلائے کون
بھیس بدل کر کھیل رہا ہے ہر کوئی اپنی راس
راہیؔ تجھ سے پوچھ رہی ہے جیون کی رَین اندھیری
میرے سنگ تو سیارے ہیں، کیا ہے تیرے پاس

‏سوہن راہی

No comments:

Post a Comment