اپنے اپنے پیمانے ہیں اپنی اپنی پیاس
موت کے صحرا میں لے آیا جیون کا بن باس
پتی پتی ہو کر ٹوٹے آشاؤں کے پھول
میرے گلشن کو آیا تو آیا پت جھڑ راس
رو رو کر جینا مشکل ہے درد بھری اس دنیا میں
کون بجھائے تیرے آنسو، ہاتھ جلائے کون
بھیس بدل کر کھیل رہا ہے ہر کوئی اپنی راس
راہیؔ تجھ سے پوچھ رہی ہے جیون کی رَین اندھیری
میرے سنگ تو سیارے ہیں، کیا ہے تیرے پاس
سوہن راہی
No comments:
Post a Comment