Monday, 11 April 2016

نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں

نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں 
اور اسکے بعد بچیں صرف خوبیاں مجھ میں
میں ایک عمر تلک جس مکاں میں رہتا رہا 
اب ایک عمر سے رہتا ہے وہ مکاں مجھ میں
سنا نہیں تھا کہ پت جھڑ بھی سبز ہوتی ہو 
مگر یہ پھول کھِلا،۔ اور ناگہاں مجھ میں
طلوع ہوتا ہے سورج غروب ہوتے ہوئے 
یہ رات جلنے لگی ہے یہاں وہاں مجھ میں
سفر سے آتا ہُوا،۔۔۔ بکریاں چراتا ہوا 
سعودؔ کوئی گڈریا ہے نغمہ خواں مجھ میں

سعود عثمانی

No comments:

Post a Comment