ان لعینوں کی علی ایسے مذمت کی جائے
بوٹیاں نوچ کے کتوں کی ضیافت کی جائے
کاٹ کر ہاتھ ، بھریں آنکھ میں سیسہ ان کی
ان پہ جاری کوئی ان کی ہی شریعت کی جائے
ان کے قبضوں سے مساجد کو چھڑا کر لوگو
ماؤں بہنوں کے کلیجے نہیں پھٹتے دیکھے؟
تم جو کہتے ہو کہ ہاں ان سے رعایت کی جائے؟
ڈر لیا ان سے جو ڈرنا تھا، بس اب اور نہیں
وقت آیا ہے کہ ختم ان کی امارت کی جائے
جو انہیں مار کے آئے اسے اپنا سمجھیں
جو انہیں ختم کرے اس کی حمایت کی جائے
دین کو ننگ بنا ڈالا ہے بد بختوں نے
ان کے افعال سے جی بھر کے کراہت کی جائے
ہم نے تقدیس انہیں دی، یہ مقدس ٹھہرے
دور اب اِن کی غلط فہمئ حُرمت کی جائے
جو یہ کہتا ہو کہ بِدعت ہے محبت کرنا
اس عقیدے کے ہر اک شخص پہ شدت کی جائے
کل بھی کہتا تھا، یہی آج بھی کہتا ہوں کہ ہاں
صرف انسان سے، انساں سے محبت کی جائے
نام ظالم کا نہ لے اور مذمت بھی کرے؟
اس منافق کی ہر اک سانس پہ لعنت کی جائے
علی زریون
No comments:
Post a Comment