کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں
یہ جو سرخ جزیرے ہیں، سب خونی ہیں
کم کم بہنا دل دریا کے دھارے پر
یہ جو غم کے دھارے ہیں، سب خونی ہیں
ہجر کی پہلی شام ہو یا ہو وصل کا دن
ہر کوچے میں ارمانوں کا خون ہوا
شہر کے جتنے رستے ہیں، سب خونی ہیں
ایک وصیت میں نے اس کے نام لکھی
یہ جو پیار کے ناتے ہیں، سب خونی ہیں
کون یہاں اِس راز کا پردہ چاک کرے
جتنے خون کے رشتے ہیں، سب خونی ہیں
بقا بلوچ
No comments:
Post a Comment