وصل کے خواب ہیں، ہجر کی آگ ہے
پھول ہی پھول ہیں،۔ آگ ہی آگ ہے
خارو خس سا ہوں میں اور وہ اٹھتی نظر
میری جانب لپکتی ہوئی آگ ہے
زندگی کے پیالے میں تلچھٹ ہے کیا
نیلگوں، سبزگوں، سرخ گوں، روشنی
تیری آنکھوں میں تو اور ہی آگ ہے
حلقۂ شاعراں،۔۔۔ شہرِ زرتشتیاں
ہم پجاری ہیں سب، شاعری آگ ہے
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment