Saturday, 9 April 2016

وصل کے خواب ہیں ہجر کی آگ ہے

وصل کے خواب ہیں، ہجر کی آگ ہے 
پھول ہی پھول ہیں،۔ آگ ہی آگ ہے
خارو خس سا ہوں میں اور وہ اٹھتی نظر 
میری جانب لپکتی ہوئی آگ ہے
زندگی کے پیالے میں تلچھٹ ہے کیا 
آخری گھونٹ ہے،۔ آخری آگ ہے
نیلگوں، سبزگوں، سرخ گوں، روشنی 
تیری آنکھوں میں تو اور ہی آگ ہے
حلقۂ شاعراں،۔۔۔ شہرِ زرتشتیاں 
ہم پجاری ہیں سب، شاعری آگ ہے

اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment