مکیں سے کہنے لگا اک مکاں کا سناٹا
ہے تیرے دم سے سلامت یہاں کا سناٹا
بہار اپنی حکایت سے آشنا ہی نہیں
خزاں کے ساتھ کھڑا ہے خزاں کا سناٹا
ہجومِ کار میں اب یاد ہی نہیں رہتا
نہ جانے کون سی جانب نکل گئے طائر
چہک رہا ہے بہت آشیاں کا سناٹا
رضی حیدر
No comments:
Post a Comment