Monday, 4 April 2016

مکیں سے کہنے لگا اک مکاں کا سناٹا

مکیں سے کہنے لگا اک مکاں کا سناٹا
ہے تیرے دم سے سلامت یہاں کا سناٹا
بہار اپنی حکایت سے آشنا ہی نہیں
خزاں کے ساتھ کھڑا ہے خزاں کا سناٹا
ہجومِ کار میں اب یاد ہی نہیں رہتا
کہ دل کو کھینچ رہا ہے کہاں کا سناٹا
نہ جانے کون سی جانب نکل گئے طائر
چہک رہا ہے بہت آشیاں کا سناٹا

رضی حیدر

No comments:

Post a Comment