Wednesday, 7 September 2016

ناز بھی ہوتا رہے ہوتی رہے بیداد بھی

ناز بھی ہوتا رہے  ہوتی رہے بے داد بھی
سب گوارا ہے جو تم سنتے رہو فریاد بھی
ایک آفت ہیں حسینانِ ستم ایجاد بھی
کرتے ہیں بیداد مجھ پر چاہتے ہیں داد بھی
وقت پڑتا ہے تو کوئی آشنا ہوتا نہیں
دشمنِ فرہاد نکلا تیشۂ فرہاد بھی
آہ بھرنا تو تجھے خوب آ گیا اے حباب
سیکھ لے ہم دل دکھوں سے نالہ و فریاد بھی
تم جو کہتے ہو بگڑ کر ہم نہ آئیں گے کبھی
یہ بھی کہہ دو اب نہ آئے گی ہماری یاد بھی
میں جو تڑپا سامنے اس کے تو خوش ہو کر کہا
ہاں مِرے سر کی قسم اس دم ذرا فریاد بھی
زلف کھولے آئے ہیں قیدی بنانے کے لیے
قید آنکھوں پر، مگر جب ہو کوئی معیاد بھی
ہائے کیا حسرت کدہ تھا دل ہمارا اے جلیلؔ
ہو گیا دو روز میں آباد بھی، برباد بھی

جلیل مانکپوری

No comments:

Post a Comment