تڑپتی کوندتی ہر چیز قابل دل نہیں ہوتی
حرارت کرمکِ شب تاب سے حاصل نہیں ہوتی
کچھ ایسا مطمئن ہوں اپنی ناکامیٔ پیہم سے
کہ جیسے رہروِ غم کی کوئی منزل نہیں ہوتی
شکستِ جام پر مۓ خانہ سارا گونج اٹھتا ہے
کوئی اس وقت دیکھے کشتۂ ضبط محبت کو
زبانِ حال بھی جب ترجمانِ دل نہیں ہوتی
بقید عقل آساں کام بھی آساں نہیں ہوتا
بہ فیض عشق مشکل بات بھی مشکل نہیں ہوتی
رخِ پُر نور کے قرباں، نگاہِ مست کے صدقے
طبیعت شعر و ساغر کی طرف مائل نہیں ہوتی
ہنسی لب پرچمک آنکھوں میں اطمینان چہرے پر
کسی عنوان تصدیقِ شکستِ دل نہیں ہوتی
قابل اجمیری
No comments:
Post a Comment