Monday, 10 October 2016

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے
یہ شام ہے کہ کوئی فرش پائمال سا ہے
تِرے دیار میں کیا تیز دھوپ تھی، لیکن
گھنے درخت بھی کچھ کم نہ تھے خیال سا ہے
کچھ اتنے پاس سے ہو کر وہ روشنی گزری
کہ آج تک در و دیوار کو ملال سا ہے
کدھر کدھر سے ہواؤں کے سامنے آؤں
چراغ کیا ہے، مِرے واسطے وبال سا ہے
کہاں سے اٹھتے ہیں بادل، کہاں برستے ہیں
ہمارے شہر کی آنکھوں میں اک سوال سا ہے
سفر سے لوٹ کے آئے تو دیکھتے ہیں فروغؔ
جہاں مکاں تھا، وہاں راستوں کا جال سا ہے

رئیس فروغ

No comments:

Post a Comment