وہ خوشرُو جب نہیں ہو گا تو یہ سب کون دیکھے گا
ہمارے دل پہ جو گزرے گی، یا رب! کون دیکھے گا
بجھی جاتی ہیں شمعیں درد کی، آہستہ، آہستہ
کسی کے روٹھنے کا یہ نیا ڈھب کون دیکھے گا
اجڑتا جا رہا ہے موسمِ دل کا ہر اِک منظر
پرائے غم کی چوکھٹ سے لگی بیٹھی ہے تنہائی
سو اس کے نیم رُخ پر غازۂ شب کون دیکھے گا
نمُودِ صبح کا اعلان تو کر جائے گا تارہ
مگر اِک عمرِ کم آثار کی چھَب کون دیکھے گا
بکھرتا جا رہا ہوں آئینہ در آئینہ، خاورؔ
مگر کس کیلئے، یہ زاویے اب کون دیکھے گا
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment