نقش بر سطح آب ہے دنیا
بلکہ موجِ سراب ہے دنیا
ایک حالت پہ رہ نہیں سکتی
پیکرِ انقلاب ہے دنیا
شبِ غفلت ہے زندگی اپنی
چند روزہ ہے اور فانی ہے
پھر بھی کیا لاجواب ہے دنیا
ہوشیار اس سے بچ کے رہتے ہیں
کہ نہایت خراب ہے دنیا
تاجوانی ہے دلکشی اس میں
ہیچ بعدِ شباب ہے دنیا
ہم سمجھتے ہیں خوب اے محرومؔ
جائے صد پیچ و تاب ہے دنیا
تلوک چند محروم
No comments:
Post a Comment