Tuesday, 11 October 2016

جہاں بھی جانا دو آنکھوں میں خواب بھر لانا

جہاں بھی جانا دو آنکھوں میں خواب بھر لانا
یہ کیا کہ ہمیشہ دل کو اداس کر لانا
میں برف برف رُتوں میں چلا تو اس نے کہا
پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا 
بھلی لگی ہمیں خوش قامتی کسی کی مگر
نصیب میں کہاں اس سَرو کا ثمر لانا
پیام کیسا مگر ہو سکے تو اے قاصد
کبھی کوئی شہریار بے خبر لانا
فرازؔ اب کے جب آؤ دیارِ جاناں میں
بجائے تحفۂ دل، ارمغانِ سر لانا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment