مجھے رتبۂ غم بتانا پڑے گا
اگر میرے پیچھے زمانہ پڑے گا
بہت غمزدہ دل ہیں کلیوں کے لیکن
اصولاً انہیں مسکرانا پڑے گا
سکوں ڈھونڈنے آئے تھے میکدہ میں
خبر کیا تھی جشنِ بہاراں کی خاطر
ہمیں آشیانہ جلانا پڑے گا
بہار اب نئے گل کھلانے لگی ہے
خزاں کو چمن میں بلانا پڑے گا
سکوتِ مسلسل مناسب نہیں ہے
اسیرو! تمہیں غُل مچانا پڑے گا
فناؔ تم ہو شاعر تو افسانۂ غم
غزل کی زبانی سنانا پڑے گا
فنا نظامی کانپوری
No comments:
Post a Comment